Umme Laila Ne Kaha Aye Mere Beta Akbar | Noha Lyrics

ام لیلی نے کہا اے میرے بیٹا اکبر
ہو گئی ماں تیری اب دشت میں تنہا اکبر
تیرے جاتے ہی میری آنکھ کا سب نور گیا
تو میرے پاس تھا جانے اب کہاں دور گیا
چھا گیا میرے مقدر میں اندھیرا اکبر

دشت غربت میں مددگار میرا کوئی نہیں
رن میں گھیرے ہے ستمگار میرا کوئی نہیں
تھا ضعیفی کا میرا تو ہی سہارا اکبر

کربلا شام کا دربار یا کوفے کی گلی
پشت پے درے ستمگر نے لگائے جب بھی
ماں نے ہر وقت مصیبت میں پکارا اکبر

نیزہ سینے پے لگا درد مجھے ہوتا ہے
زخم تم کو ہے ملا درد مجھے ہوتا ہے
ٹکڑے ٹکڑے ہے ہوا میرا کلیجہ اکبر

ٹھوکریں کھاتی دیواروں سے در ملتا نہیں
ہر طرف ڈھونڈتی ہوں نور نظر ملتا نہیں
اب نظر مجھکو نہیں آتا ہے رستہ اکبر

آؤ آؤ میرے دلبر میرے اکبر آؤ
روح شبیر ہو ہمشکل پیمبر آؤ
دشت میں ہے مادر مضطرکا ہے نوحہ اکبر

نوحہ شاہد نے لکھا غم سے جگر پھٹنے لگا
سن کے روداد رضا سارا جہاں ہلنے لگا غم سے ماں ہو گئی اک شب میں ضعیفہ اکبر

440 Views

Scan this QR code to view these lyrics on your mobile devices.

More
Lyrics

More Nohay Lyrics Available On The APP

Screenshot